Musawir Ali 🇵🇰
Entry No. 2
★ 0.0/5 · 0 votes
نقشِ جفا
مجھ میں جو بجھ گیا، وہ چراغ تم ہو
میرے سینے پہ جو لگا، وہ داغ تم ہو
نہ ہو سکی کبھی غم سے نجات بھی ممکن
مل نہ سکا جو مجھے، وہ فراغ تم ہو
تری جفاؤں نے ویران کر دیا مجھ کو
کبھی جو کھلتا تھا دل کا، وہ باغ تم ہو
اداسیوں کا سبب یوں تو اور بھی ہیں بہت
مگر اس دشتِ بلا کے، وہ زاغ تم ہو
اسی لیے تو علیؔ غم سے بچ نہیں پاتا
جو دل کو غم کا رنگ دے، وہ صباغ تم ہو
مصور علی
0.0 / 5 · 0 votes
This poem is not according to the current contest requirements. Please read the contest rules and regulations.