You are currently viewing Gulshan by Saif Khan

Gulshan by Saif Khan




گلشن

یہ گلشن ہے آئینہ دل کا

الجھنوں کا کوئی نکال حل


گشت کو آتی ہے یاد یار یہاں

یہاں ہمیشہ رہتی ہے ہلچل


نہ کوئی صبا ہے سکون کی

نہ دنیا کا کوئی عمل دخل


یہاں باغباں ہیں پرامید

کہ بلبل آئے گا ضرور مگر


لائےگا ساتھ آپ نے وہ رنجشیں

جو پڑ گئی اگر باغ پر


تو ہر طرف ہوگی راکھ اور

یہ باغ جائے گا اجڑ


پھر دیکھے گا جب تو ریت میں

سب جان کے ہوگا بے خبر


کہ کاش دیکھتا ایک نظر

جو کہتا تھا مجھ سے بات کر


لوٹے گا پھر تو باغ میں

ملے گا سب تجھے خاکستر


پوچھے گا اس کا جہان سے

جو جہان سے تھا بے خبر


لیکن ملوں گا تجھے اس موڑ پر

مجھے چھوڑ گیا تھا تو جدھر

‘ساقی

This post is not added to the contest. Please check your email.

Leave a Reply