Anoosha Khuram 🇵🇰
Entry No. 11
حرفِ تمنا کا ماجرا
ہمیں بھی عرضِ تمنا کا ماجرا کہنا تھا
مگر لبوں پہ فقط زخمِ بےصدا کہنا تھا
فقیہِ شہر کے فتویٰ میں عشق گم تھا کہیں
ہمیں تو نرگسِ تر کی صدا کہنا تھا
یہ کیسا عہدِ مسلسل ہے خواب بکتے ہیں
ہمیں تو سچ کو فقط نغمۂ عیاں کہنا تھا
لبوں پہ ذکر تھا لیکن دلوں میں خاک تھی بس
ہمیں تو درد کو آئینِ کارواں کہنا تھا
ہزار رنگ ہیں دیوار و در پہ خون کے، پر
کسی نے ظلم کو سازِ تمدناں کہنا تھا
یہی وہ ساعتِ گریہ ہے، دل لرزنے لگے
جہاں مجاز کو وحیِ حق نما کہنا تھا
عدالتوں میں ضمیروں کے مول طے پائے
ہمیں تو عدل کو بھی چشمِ بد گماں کہنا تھا
کبھی جو شوقِ سفر تھا وہ دھر لیا ہم نے
خدا کی راہ میں ہجرت کو آستاں کہنا تھا
انوشہ خرم
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
