Maria Kanwal 🇵🇰
Entry No. 24
اپنے
دیکھے ہیں ہماری آنکھوں نے بہت سے سپنے
جو نہ سمجھ سکے ہمیں، وہ کیسے ہوں اپنے
جو روح سے نہ ملے، وہ کیا کریں ہم اپنے
ظاہر کی چاہت میں کھو گئے جو تھے کبھی اپنے
بنتے ہیں فقط جو ظاہری خوبصورتی سے اپنے
کر جاتے ہیں دغا وہ کل، آج بن کے بھی اپنے
چہرے کی رونق میں سجا لیے جنہوں نےآج اپنے
وقت آیا تو چھوڑ گئے جو تھے کل اپنے
چل نہیں سکتے وہ کبھی راہوں میں ایسے اپنے
جو بنے تھے فقط سہارے دیکھ کےحسن کو ہمارے اپنے
درد میں جو ساتھ رہے ہم مانتے ہیں، اُسے اپنے
وقت بتا تا ہیں ہمیں کہ کون ہیں اصل میں اپنے
سپنے ہوتے ہیں وہی سچے جہاں دل سے ہوں وہ اپنے
روح پہچان جاتی ہے آخر اک دن، کہ کون ہیں اصل میں اپنے
ماریہ کنول
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
