Muhammad Pars Javed 🇵🇰
Entry No. 28
دل کے پاس
جو دل کے پاس تھا، وہ دور ہو کے بھی قریب رہا
یہ کیسا راز تھا، جو درد بھی، نصیب رہا
کبھی وہ چھن گیا ہم سے، کبھی ملا پھر سے
سو ہر وصال میں اک ہجر کا فریب رہا
ہمیں تو آزمائش تھی، سو ہم نے صبر کیا
کہ ہر شکست کے پردے میں اک حبیب رہا
وہ لوٹ آیا تو دیکھا کہ دل بدل چکا تھا
وہی تھا سامنے، لیکن نہ وہ نصیب رہا
کبھی تو قدر تھی اُس کی، کبھی طلب بھی تھی
جو دل سے اتر گیا، پھر کہاں وہ عزیز رہا
نہ بخت جیت سکا اور نہ ہجر جیت سکا
جو دل نے مان لیا، وہی حتمی نصیب رہا
یہ دل بھی عجب شے ہے، عجیب حکم رکھتا ہے
جہاں یہ راضی ہوا، بخت بے رقیب رہا
نہ وصل اُس کو عزیز اور نہ فراق کا غم
بس ایک اطمینانِ دل ہی اپنا نصیب رہا
ہمیں خبر ہوئی آخر کہ کھیلِ قسمت کیا
جسے سمجھتے رہے بخت، وہ تو دل کا فریب رہا
نصیب در بدر کرتا رہا ہمیں لیکن
جہاں سکون ملا، بس وہی مکان حبیب رہا
سو اب نہ ہجر کا شکوہ، نہ وصل کی خواہش جاوید
جو دل میں ٹھہر گیا، عمر بھر نصیب رہا
محمد پارس جاوید
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.

ہمیں خبر ہوئی آخر کہ کھیلِ قسمت کیا
جسے سمجھتے رہے بخت، وہ تو دل کا فریب رہا
ارے واہ میرے بھائی، کیا کہنے۔ سبحان اللہ