Syed Shabbar Zaidi 🇵🇰
Entry No. 35
خواب
نیند میں ہاتھ پکڑتے ہی الجھ جاتے ہیں
خواب ٹوٹیں تو حسیں لوگ بچھڑ جاتے ہیں
تجھ کو پانے کی طلب میں، تیرے سودائی دشت
حد سے آگے بھی سفر ہو تو گزر جاتے ہیں
کتنی تلخی ہے محبت کے پیالے میں، مگر
پیاس اتنی ہے کہ ایک گھونٹ سے بھر جاتے ہیں
دل کے زخموں کا مداوا تو نہیں تھا ممکن
شام ہوتے ہی یہ ناسور اُبھر جاتے ہیں
تو نے دیکھا ہی نہیں ہجر کا عالم ورنہ
لوگ ہنستے ہوئے اندر سے بکھر جاتے ہیں
کتنے بے بس ہیں کہ اک لفظِ تسلی کے لیے
تیرے قدموں میں تیری یاد کے سر جاتے ہیں
وہ جو کہتے تھے کہ جی لیں گے تیرے بن، ہم بھی
روز جیتے ہیں مگر روز ہی مر جاتے ہیں
ہجر کی شام جو آتی ہے سرِ بامِ خیال
اشک پلکوں سے اتر کر سرِ در جاتے ہیں
زندگی کھیل ہے شطرنج کا شاید، جس میں
جیت کے لوگ بھی اپنوں سے بچھڑ جاتے ہیں
دستِ تقدیر سے شکوہ ہے یہی بس شبرؔ
ہم جہاں جاتے ہیں، حالات بگڑ جاتے ہیں
سید شبر زیدی
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
