Owais Batwani 🇵🇰
Entry No. 33
چین آ جائے
دن بھر کی مشقت میں
ذلیل و خوار ہوتے ہیں
تھکن سے چور ہو جائیں
پھر بھی کام کرتے ہیں
صبح سے شام کرتے ہیں
پر مکمل کام کرتے ہیں
مگر جب شام ہوتی ہے
ہمیں جب گھر کو جانا ہو
تھکن سارے جسم کو گھیر لیتی ہے
قدم تک بھی نہیں اٹھتے
بڑی مشکل سے جب میں گھر پہنچتا ہوں
میرے گھر میں اندھیرا پہلے سے موجود ہوتا ہے
اندھیرے سے مجھے کچھ خوف آتا ہے
اندھیرا جیسے جیسے بڑھتا جاتا ہے
کچھ لوگ ہیں ایسے جو مجھ کو یاد آتے ہیں
مجھے بے حد ستاتے ہیں
میں ان کی یاد کو فانوس میں رکھ کر
اک دیا جلاتا ہوں، چراغاں خوب کرتا ہوں
میں سب کو بھول جاتا ہوں
نہ مجھ کو نیند آتی ہے
نہ مجھ کو چین آتا ہے
کوئی مخمل پہ سوتا ہے
کوئی کانٹوں کے بستر پر
کوئی ایسا بھی بستر ہو
ہمیں بھی نیند آ جائے
ہمیں بھی چین آ جائے
اویس بٹوانی
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
