Sue Daar by Nabeel Hussain shah




سوے دار

گھر اپنا نا سہی تو پھر یہ دیار ہی سہی

ان کی گلی میں چلے بے اختیار ہی سہی


لطف عنایت ان کی میسر نہیں ہے تو

پھر ان کی یادوں کا بس کاروبار ہی سہی


کہیں نا کہیں ہم بھی بیٹھ ہی لیں گے

لوگ ان کی محفل میں بے شمار ہی سہی


در یار میں ہم کو جو جگہ نا مل سگی ہے

تو اب چلیں گے ہم پھر سوے دار ہی سہی

نبیل حسین شاہ

★★★★★5 (1 vote)

Leave a Reply