Ghazal by Arbab Adam

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Current Contest

Top Rated Poets




غزل

مُنصف ہیں کسی شاہ کے دربار میں گُم ہیں

ہم صاحبِ گفتار بھی گفتار میں گم ہیں

ہم سوچتے ہیں، سوچنا اچھا تو نہیں ہے

بے مغز کسی مغز کی دستار میں گم ہیں

کیا عجب تماشا ہے یہ دنیاء رنگ و بو

فنکار کسی دوسرے فنکار میں گم ہیں

اک کمرے میں اک میز، کچھ اوزار، دوائیں

کچھ آدمی ہیں، درد کے اظہار میں گم ہیں

کچھ لوگ کر رہے ہیں حسن و عشق کی باتیں

کچھ روح اور جسم کی تکرار میں گم ہیں

کچھ رنگ آدمی ہیں، کچھ ہیں آدمی میں گم

کچھ رنگ ہیں جو ابرِ گُہر بار میں گم ہیں

ارباب آدم

0 (0 votes)

Leave a Reply