کیا خبر زمانے کو مرے دلِ فگار کی
کیا خبر زمانے کو مرے دلِ فگار کی
خزاں نے لوٹ لی ہے سب بہار کوئے یار کی
تڑپ رہی ہے جاں مری اسیرِ دام کی طرح
ملی نہ ایک دید بھی وہ اپنے شہریار کی
کٹی ہے عمر حسرتوں کی دھول چاٹتے ہوئے
ملی نہ خاکِ پا ہمیں گلی کے پردہ دار کی
لہو میں ڈوب کر ہی ہم نے راہِ عشق طے کی ہے
ملی ہے بھیک پاؤں میں کسی کے نقشِ خار کی
جنوں میں ہم بھی قیس بن کے خاک میں ملے مگر
سنی نہ آہ بخت نے کسی بھی سوگوار کی
نہ کاٹ پائے کوهِ غم ہم اپنے خستہ پاؤں سے
بڑی کڑی ہے منزلیں فراق کے حصار کی
پلائی جو نگاہ سے تو ہوش سب کے اڑ گئے
ضرورت اب رہی نہیں ہے بادہ و خمار کی
پکارتا ہے نامِ یار، ہچکیاں ہی ہچکیاں
پھٹی ہوئی ہے آستین آج سوگوار کی
سکوں ملا نہیں اسدؔ کو خاک کی پناہ میں
اجل نے لی ہے چٹکی دیکھو جو مرے مزار کی
محمد اسدؔ علی
★★★★★0 (0 votes)