Doctor Madiha Arif 🇵🇰
Entry No. 14
★★★★★★★★★★ 5.0/5 · 5 votes
اس سے کہنا
اس سے کہنا کہ محبت سچی تھی
اس سے کہنا کہ الفت سچی تھی
نبھانے تھے ہم نے کئی وعدے
جو نہ نبھا سکے، اِک بھی تو کیا
اس سے کہنا کہ ہر وعدے کی
دل میں بندھی بنیاد سچی تھی
چلنے تھے تم سنگ کئی قدم
جو نہ چل سکے، اِک بھی تو کیا
اس سے کہنا کہ ہر راستے کی
دل میں لگی لگن سچی تھی
یہ وعدہ تھا تم سے دو زندگیوں کا
بچھڑ گئے جو اِس زندگی میں تو کیا
اس سے کہنا کہ زندگی بھر ساتھ نبھانے کی
جو کھائی تھی قسم، وہ سچی تھی
بکھر گئے سب ہی الفاظ میرے
اک تیرے چلے جانے کے بعد
اس سے کہنا کہ جو بکھرے لفظوں سے
پروئی تھی غزل، وہ سچی تھی
ہیں تیرے واسطے دنیا کے کئی راستے
نہ اِن میں سے ایک بھی مجھ سے ہے جڑتا
اس سے کہنا کہ تم سنگ راستوں پر
چلنے کی آس سچی تھی
اس سے کہنا کہ محبت سچی تھی
اس سے کہنا کہ الفت سچی تھی
ڈاکٹر مدیحہ عارف
5.0 / 5 · 5 votes