Us se Kehna by Doctor Madiha Arif




Doctor Madiha Arif 🇵🇰

Entry No. 14

4.1/5 · 10 votes

اس سے کہنا

اس سے کہنا کہ محبت سچی تھی

اس سے کہنا کہ الفت سچی تھی

نبھانے تھے ہم نے کئی وعدے

جو نہ نبھا سکے، اِک بھی تو کیا

اس سے کہنا کہ ہر وعدے کی

دل میں بندھی بنیاد سچی تھی

چلنے تھے تم سنگ کئی قدم

جو نہ چل سکے، اِک بھی تو کیا

اس سے کہنا کہ ہر راستے کی

دل میں لگی لگن سچی تھی

یہ وعدہ تھا تم سے دو زندگیوں کا

بچھڑ گئے جو اِس زندگی میں تو کیا

اس سے کہنا کہ زندگی بھر ساتھ نبھانے کی

جو کھائی تھی قسم، وہ سچی تھی

بکھر گئے سب ہی الفاظ میرے

اک تیرے چلے جانے کے بعد

اس سے کہنا کہ جو بکھرے لفظوں سے

پروئی تھی غزل، وہ سچی تھی

ہیں تیرے واسطے دنیا کے کئی راستے

نہ اِن میں سے ایک بھی مجھ سے ہے جڑتا

اس سے کہنا کہ تم سنگ راستوں پر

چلنے کی آس سچی تھی

اس سے کہنا کہ محبت سچی تھی

اس سے کہنا کہ الفت سچی تھی

ڈاکٹر مدیحہ عارف

4.1 / 5 · 10 votes

📢 Get your Promotion image

This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.

Leave a Reply