Usman Shabir 🇵🇰
Entry No. 5
★ 0.0/5 · 0 votes
ساری فکریں ساتھ لے
بچھڑ جاؤں گا، اس جہاں سے چلا جاؤں گا،
کچھ کچھ کو یاد آؤں گا، باقیوں کو بھول جاؤں گا،
میرا کوئی وجود تھا، کبھی اس زمین پر،
پھر بس کبھی، کئی بار، باتوں میں رہ جاؤں گا،
کبھی میں بھی محفلوں کے لئے، ضروری سمجھا جاتا ہو گا،
کسی کے لئے خوشی، اور محض کسی کے لئے فرضی ہوتا ہو گا،
کبھی میری آواز، میری آہٹ، سرگوشی، کرتی ہو گی، ارد گرد،
کوئی مسکراتا، چہرہ، میرا، دیکھ کر سکون، تو کوئی نظروں سے، انگارے، جالاتا ھو گا،
زندگی فقط، وقت کے حصار تک، محدود رہتی ہے،
ہاں، کوئی جان جاتا ہے، تو کوئی، بس جان جانے کے، فنکاری دیکاتا ھو گا،
چلو، اب آزاد کرتا ہوں، ان لوگوں کو، وہ جو پریشانی کے وجہ، مجھے سمجھتے تھے،دیکھو، مجھے دفن ہوتے، خاموشی سے، ساری فکریںساتھ لے، چلا جا رہا ہوں…
کچھ وقتوں تک، ذہن میں، یاد بن کر رہوں گا، کسی کےلئے اچھا، کسی کے لئے برا،
پھر، گزرتے وقتوں کے ساتھ، ایک سنسان، زمین میں، ایک کتبے پر لکھے، میرے نام کے ساتھ، بس یہی پر ختم ہو جاؤں گا۔
عثمان شبیر
0.0 / 5 · 0 votes