Usman Shabir 🇵🇰
Entry No. 5
ساری فکریں ساتھ لے
بچھڑ جاؤں گا، اس جہاں سے چلا جاؤں گا،
کچھ کچھ کو یاد آؤں گا، باقیوں کو بھول جاؤں گا،
میرا کوئی وجود تھا، کبھی اس زمین پر،
پھر بس کبھی، کئی بار، باتوں میں رہ جاؤں گا،
کبھی میں بھی محفلوں کے لئے، ضروری سمجھا جاتا ہو گا،
کسی کے لئے خوشی، اور محض کسی کے لئے فرضی ہوتا ہو گا،
کبھی میری آواز، میری آہٹ، سرگوشی، کرتی ہو گی، ارد گرد،
کوئی مسکراتا، چہرہ، میرا، دیکھ کر سکون، تو کوئی نظروں سے، انگارے، جالاتا ھو گا،
زندگی فقط، وقت کے حصار تک، محدود رہتی ہے،
ہاں، کوئی جان جاتا ہے، تو کوئی، بس جان جانے کے، فنکاری دیکاتا ھو گا،
چلو، اب آزاد کرتا ہوں، ان لوگوں کو، وہ جو پریشانی کے وجہ، مجھے سمجھتے تھے،دیکھو، مجھے دفن ہوتے، خاموشی سے، ساری فکریںساتھ لے، چلا جا رہا ہوں…
کچھ وقتوں تک، ذہن میں، یاد بن کر رہوں گا، کسی کےلئے اچھا، کسی کے لئے برا،
پھر، گزرتے وقتوں کے ساتھ، ایک سنسان، زمین میں، ایک کتبے پر لکھے، میرے نام کے ساتھ، بس یہی پر ختم ہو جاؤں گا۔
عثمان شبیر
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
