Lafzon Sa Martay Ha Insan by Rimsha Zafar
لفظوں سے مرتے ھیں انسان بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نھیں لفظوں سے مرتے ھیں انسان خنجر کچھ نھیں بغیر ستاروں کے تو آسمان بھی ویران ھے…
لفظوں سے مرتے ھیں انسان بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نھیں لفظوں سے مرتے ھیں انسان خنجر کچھ نھیں بغیر ستاروں کے تو آسمان بھی ویران ھے…
ایسا جھونکا گیا ہوں وصل میں کہ اب بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نہیں بن ہؤاوں کے شاہینوں کے پر کچھ نہیں باتوں میں تم یادوں میں…
بن راہوں کے یہ منزلیں کچھ نہیں بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نہیں بن راہوں کے یہ منزلیں کچھ نہیں ننھے پھولوں کے احساس کو پرکھو اور…
تیرے دل میں درد کے علاؤہ کچھ نہیں اے حسن والوں!!! یہ حسن غرور کے علاؤہ کچھ نہیں آؤ پاس بیٹھوں سچ کہو تو اب تیرے علاؤہ ہم کچھ نہیں…
یہ محض تیرا خیال ہے اور کچھ بھی نہیں بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نہیں یہ محض تیرا خیال ہے اور کچھ بھی نہیں کیسے کہوں کہ…
بن مکینوں کے ،یہ درودیوار گھر تو نہیں بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نہیں بن نازکی اورمہک کے یہ گل کچھ نہیں بن عاجزی و حیا یہ…
In the Urdu poetry contest no. 5 the date of submission of poetry is extend because the minimum number of participants are 30. So, we are extending the submission date…
سوا تمھارے پاس میرے کچھ نھیں سوا تمھارے پاس میرے کچھ نھیں بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نھیں نہ گھر رہا نہ گھر کو چلانے والے میرے…
کچھ رشتے خون کے علاؤہ کچھ نہیں کچھ رشتے خون کے علاؤہ کچھ نہیں "جیسے" بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نہیں مت گھبرا ان دکھوں کو دیکھ…
یہ نگر ،یہ ڈگر، رہگذر کچھ نہیں یہ نگر ،یہ ڈگر، رہگذر کچھ نہیں میرے ہمدم، ترے ہم قدم ، یہ سفر کچھ نہیں جل رہی ہے یاد تری، کسی…