Hosla Na Ho Agar Toh Hain Par Kuch Nahi by Ayman Amjad
حوصلہ نہ ہو اگر تو ہیں پر کچھ نہیں حوصلہ نہ ہو اگر تو ہیں پر کچھ نہیں بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نہیں تبدیلی اگر چاھتے…
حوصلہ نہ ہو اگر تو ہیں پر کچھ نہیں حوصلہ نہ ہو اگر تو ہیں پر کچھ نہیں بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نہیں تبدیلی اگر چاھتے…
بن مقصد کے اس زندگی کا مزا کچھ بھی نہیں بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ بھی نہیں بن مقصد کے اس زندگی کا مزا کچھ بھی نہیں…
گر عشق ہو مُقابل تو زہر کچھ نہیں بِن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نہیں گر وطن نہ ہوتو حُسنِ سَحر کچھ نہیں ماہ جبینوں کو تاکتی نظروں…
کہنا تھا یہ کہ_____مگر کچھ نہیں بنا کوشش ، منزل کی طلب بےکار بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نہیں آزمائشیں ہیں احساسِ سانسِ رواں سہل ہو تو…
شام لو آ ہی گہی گھر کو جانا ہے ابھی شام لو آ ہی گہی گھر کو جانا ہے ابھی گھر تو بنگلا ھے مگر ایک بھی شمع نہیں دنیا…
اندھیری شب میں کمی کس کی ہے ساقیا اندھیری شب میں کمی کس کی ہے ساقیا؟ بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نہیں وہ موج بیتاب دل میں،کوئے…
کیسے کہوں تیرے دل میں میرا غم کچھ نیہں کیسے کہوں تیرے دل میں میرا غم کچھ نیہں کیونکہ جانچا ھے تجھے توکسی بےوفا سے کم نیہں کر لیے ھیں…
حیا نہ ہو اگر جس میں وہ نظر کچھ نہیں بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نہیں حیا نہ ہو اگر جس میں وہ نظر کچھ نہیں یوں…
We thank to all the participants to take part in the Urdu handwriting competition. The Winner of the 1st contest is Kainat Javed Congratulations!
This entry received after the expiry of submission of Urdu handwriting. Posted but not added in the current contest.