Anwar Nadeem 🇮🇹
★ 4.0/5 · 1 vote
ایک جگنو کی جب جھلک پاؤں
شکستگی
ہوئے ہیں سلسلے سارے شکستگی کا شکار
ہوا جو عام محبت کا جھوٹا کاروبار
وفا کے نام پہ مطلب نکالتے ہیں لوگ
غریب کی تو یہ پگڑی اچھالتے ہیں لوگ
پڑی ہے اپنوں کے اندر دراڑ سی ایسی
یہ مال و زر نے ہے چادر سی تان دی ایسی
فضا میں گھوم گئے نفرتوں کے پیمانے
نہ میں تجھے نہ مجھے تو ہی آج پہچانے
فکر میں اپنے ہی بخیے ادھیڑتے ہیں یہ لوگ
لہو کی بوند کو ایسے ہی چھیڑتے ہیں یہ لوگ
شہر کے نامہ برو آج خط نہ پہنچائیو
ہیں نفرتوں سے بھرے واپسی پہ لے جائیو
کھڑا کیا ہے میرے واسطے جو پہرےدار
وہ سو گیا ہے سبھی بیچ کے میرے سنسار
کہو وہ کون ہے جس پہ ہم اعتبار کریں
اگر ملے تو اسے اپنا غمگسار کریں
ہوا ہے آتش دنیا میں آفتاب غروب
کہیں یہ چاند بھی جائے نہ چاند رات میں ڈوب
کسی سویر کے کاندھے پے آشیاں رکھ دو
کسی طرح سے یہ محفوظ زندگی کرلو
بچا سکو تو اے نازش بچا کے رکھ لو تم
سبھی چراغ محبت سجا کے رکھ لو تم
ثناءجمیل
4.0 / 5 · 1 vote