دل
دل کے مکاں میں کیوں دیواریں بنا رہی ہو
خود ہی دل کے دیے بجھا رہی ہو
کس سمت جائیں گی ہماری دل کی کشتیاں
خود ہی اپنے بادبان جلا رہی ہو
کیا بنے گا ہماری اس محبت کا
خود ہی ہم سے آنکھیں چرا رہی ہو
کیسے گزرے گی یہ زندگی کی گھڑیاں خاکی
خود ہی اپنی گھڑیاں اوروں سے ملا رہی ہو
محمد عمران بھٹی خاکی
★★★★★5 (1 vote)