Maryam mukhtar 🇵🇰
Entry No. 15
آسِ محبت
یہ آس ہے تو بندھی رہے، یہ خیال دل میں بسا رہے
محبتوں کا شہر ہے، یہ محبتوں سے سجا رہے
ہے تمنا میری، وہ مکاں ہنسا بسا رہے
جس کا مکیں یہ قلب ریزہ ریزہ کیے چھپا رہے
چاہے کٹے یہ رات تاریکیوں سے ہم کلامی میں
خدا کرے تیرے حسین سپنوں کا دیا یوںہی جلا رہے
ہوں آشنا اس بات سے کہ ہے منزل رات کا سویرا
خدا کرے تیری یادوں کا دیا یوں ہی جلا رہے
ہزار پہلوؤں کے بعد بھی تیری محبت کیوں قضا رہے
کیا یہ محبت اتنی مہنگی کہ میری ذات سے خفا رہے
عرض ہے مرشد سے، میرا یار کیوں خفا رہے
میں ہوں گر اضطراب میں، تو وہ کیوں جدا رہے
مریم مختار
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.

Very nicely written
Umda
Impressed 💯😁
Thanks 👍
Brilliant, it touched the heart
Wah, kya baat hai
Very deep words.
Impressive