سوے دار
گھر اپنا نا سہی تو پھر یہ دیار ہی سہی
ان کی گلی میں چلے بے اختیار ہی سہی
لطف عنایت ان کی میسر نہیں ہے تو
پھر ان کی یادوں کا بس کاروبار ہی سہی
کہیں نا کہیں ہم بھی بیٹھ ہی لیں گے
لوگ ان کی محفل میں بے شمار ہی سہی
در یار میں ہم کو جو جگہ نا مل سگی ہے
تو اب چلیں گے ہم پھر سوے دار ہی سہی
نبیل حسین شاہ
★★★★★0 (0 votes)