Samal 🇵🇰
Entry No. 17
★★★★★★★★★★ 0.0/5 · 0 votes
غزل
اُٹھیں جو آنکھیں تو بس اِک دعا نِکل جائے
جُھکیں جو پلکیں تو سارا جہاں نِکل جائے
نہ حرفِ لب کی طلب ہے، نہ گفتگو کی پیاس
بس اُن کے عکس سے اپنا سَماں نِکل جائے
وہ سامنے ہوں تو مِلتی نہیں مِری نظریں
اِسی حجاب میں سارا بیاں نِکل جائے
اِدھر ہجومِ تمنّا، اُدھر وہ بے خبر سے
خُدا کرے کہ یہ عمرِ رواں نِکل جائے
وہ جب بھی سامنے آئیں تو سانس رُک جائے
اِسی حیا میں کہیں اپنی جاں نِکل جائے
ثملؔ! وہ ایک نظر دیکھ لیں کرم کر کے
پھر اِس کے بعد بھلے اِک فغاں نِکل جائے
ثملؔ
0.0 / 5 · 0 votes
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.