Muhammad Ibrahim 🇵🇰
Entry No. 16
ملاقات
اس ایک لمحے کی جھلک کو ملاقات تو نہ کہو
آنکھ جھپکی، وصل کی اس شام کو ملاقات تو نہ کہو
سو بار سوچا تھا کہ تم سے کچھ عرضِ دل کریں
دیدار ہو گیا تو ہر بات کو ملاقات تو نہ کہو
اس ایک لمحے کی جھلک نے دو جہاں سنوار دیے
میری اس خواب جیسی رات کو ملاقات تو نہ کہو
دل کے راز کھل گئے، آنکھوں نے سب کہہ دیا
دور رہ کر بھی جو پاس رہے، اسے جدائی تو نہ کہو
تم بن جو ایک پل بھی صدیوں سا گزر جائے
اس دردِ دل کو صرف انتظار تو نہ کہو
آج چاند بھی میری طرح تنہا سا لگ رہا ہے
تم بن گزری جو رات، اسے رات تو نہ کہو
محمد ابراہیم
📢 Get your Promotion image
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.

Wow it’s great , matlb yr bht hi alla