Shafqat Karimi 🇮🇳
Entry No. 19
★★★★★★★★★★ 0.0/5 · 0 votes
تمھارا لوٹنا
میں نے سوچا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
کیا پتا چھوڑ کے جاتے ہیں يوں جانے والے
اس محبت کی زمیں سے میں پلا ہوں اب تک
مجھ میں نفرت نہ بساؤ اے زمانے والے
اپنے آنکھوں سے کبھی جام پلاتی ہو تو
پھر ضرورت ہی نہیں تیری مے خانے والے
میرے اپنوں سے بھی بڑھ کر ملتے ہیں وہ
جو تھے بستی میں کبھی آگ لگانے والے
میری قسمت میں محبت ہی نہیں ہے تم سے
ایسا ہے چھوڑ دے پھر دل کو جلانے والے
جانے والے تو چلے جائیں مجھے کیا لینا
مجھ کو بس فکر ہے اک تیری ہی آنے والے
شفقت کریمی
0.0 / 5 · 0 votes
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.