Tumahra Lootna by Shafqat Karimi




Shafqat Karimi 🇮🇳

Entry No. 19

3.5/5 · 2 votes

تمھارا لوٹنا

میں نے سوچا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے

کیا پتا چھوڑ کے جاتے ہیں يوں جانے والے


اس محبت کی زمیں سے میں پلا ہوں اب تک

مجھ میں نفرت نہ بساؤ اے زمانے والے


اپنے آنکھوں سے کبھی جام پلاتی ہو تو

پھر ضرورت ہی نہیں تیری مے خانے والے


میرے اپنوں سے بھی بڑھ کر ملتے ہیں وہ

جو تھے بستی میں کبھی آگ لگانے والے


میری قسمت میں محبت ہی نہیں ہے تم سے

ایسا ہے چھوڑ دے پھر دل کو جلانے والے


جانے والے تو چلے جائیں مجھے کیا لینا

مجھ کو بس فکر ہے اک تیری ہی آنے والے


شفقت کریمی

3.5 / 5 · 2 votes

📢 Get your Promotion image

This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.

This Post Has One Comment

  1. Musawir Ali

    مرا نام مصور علی ہے اور میں اس مقابلے میں فی الحال پہلے نمبر پر ہوں۔ میری غزل کا نام “نقشِ جفا” ہے۔

    میں نے آپ کی غزل پڑھی ہے اور مجھے آپ کی غزل بہت اچھی لگی ہے۔ آپ نے بہت اچھی کوشش کی ہے، ایسے ہی لکھتے رہیں۔

    لیکن غزل کے اصولوں کے مطابق ایک ہی قافیہ دوبارہ دہرایا نہیں جاتا، مگر آپ نے پہلے شعر کے دوسرے مصرعے میں ایک ہی قافیہ دوسری بار استعمال کیا ہے۔

    میں کوئی اتنا بڑا شاعر تو نہیں ہوں، میں ایک عام سا لکھنے والا ہوں، لیکن میں آپ کو ایک چھوٹی سی نصیحت یا مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ آپ پہلے شعر کے دوسرے مصرعے کو اس طرح تبدیل کر دیں تو بہتر ہوگا۔

    کیا پتا چھوڑ کے جاتے ہیں یوں چھوڑنے والے

    یہ مصرعہ وہی ہے، بس “جانے والے” کی جگہ “چھوڑنے والے” کر دیں۔

Leave a Reply