Shafqat Karimi 🇮🇳
Entry No. 19
تمھارا لوٹنا
میں نے سوچا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
کیا پتا چھوڑ کے جاتے ہیں يوں جانے والے
اس محبت کی زمیں سے میں پلا ہوں اب تک
مجھ میں نفرت نہ بساؤ اے زمانے والے
اپنے آنکھوں سے کبھی جام پلاتی ہو تو
پھر ضرورت ہی نہیں تیری مے خانے والے
میرے اپنوں سے بھی بڑھ کر ملتے ہیں وہ
جو تھے بستی میں کبھی آگ لگانے والے
میری قسمت میں محبت ہی نہیں ہے تم سے
ایسا ہے چھوڑ دے پھر دل کو جلانے والے
جانے والے تو چلے جائیں مجھے کیا لینا
مجھ کو بس فکر ہے اک تیری ہی آنے والے
شفقت کریمی
📢 Get your Promotion image
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.

مرا نام مصور علی ہے اور میں اس مقابلے میں فی الحال پہلے نمبر پر ہوں۔ میری غزل کا نام “نقشِ جفا” ہے۔
میں نے آپ کی غزل پڑھی ہے اور مجھے آپ کی غزل بہت اچھی لگی ہے۔ آپ نے بہت اچھی کوشش کی ہے، ایسے ہی لکھتے رہیں۔
لیکن غزل کے اصولوں کے مطابق ایک ہی قافیہ دوبارہ دہرایا نہیں جاتا، مگر آپ نے پہلے شعر کے دوسرے مصرعے میں ایک ہی قافیہ دوسری بار استعمال کیا ہے۔
میں کوئی اتنا بڑا شاعر تو نہیں ہوں، میں ایک عام سا لکھنے والا ہوں، لیکن میں آپ کو ایک چھوٹی سی نصیحت یا مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ آپ پہلے شعر کے دوسرے مصرعے کو اس طرح تبدیل کر دیں تو بہتر ہوگا۔
کیا پتا چھوڑ کے جاتے ہیں یوں چھوڑنے والے
یہ مصرعہ وہی ہے، بس “جانے والے” کی جگہ “چھوڑنے والے” کر دیں۔