Areeba Iman 🇵🇰
Entry No. 20
★★★★★★★★★★ 0.0/5 · 0 votes
خواب
اک سنگ تھا جو دھول سے مرمر میں آگیا
“دستک دیے بغیر مرے گھر میں آگیا”
برقِ تجلیوں میں کہاں چین تھا اسے
قوسِ قزح سے گر کے سمندر میں آگیا
بادِ صبا سے لڑ پڑی تھی گردباد جب
اک دل شکستہ قافلہ لشکر میں آگیا
جو پیچ و خم جھلکتا تھا چہرے کے وسط میں
کس کی شکن جبین کے تیور میں آگیا
دل نے کہا کہ ہجر میں تنہا لڑا ہوں میں
تب آستیں کا سانپ برابر میں آگیا
لوحِ جہاں پہ عشق کو لکھا گیا تھا یوں
دل کی زمیں پہ حرفِ مکرّر میں آگیا
بیدار ہورہی تھی اریبہ خمار سے
اک خواب تھا جو زیست کی چادر میں آگیا
اریبہ ایمان
0.0 / 5 · 0 votes
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.