زندگی
میں نے چاہی زندگی خواب کی مانند
گزری ہے جو ایک عذاب کی مانند
کسی نے کوئلہ سمجھ کر تراشا ہی نہیں
کسی نے سمجھا ہی نہیں نایاب کی مانند
ہر پل کو گزارا ہے گھر میں اپنے
گھر بھی نہیں میرا حجاب کی مانند
اچھا نہیں ہے عون اچھا ہونا
پھینک دیتے ہیں لوگ کتاب کی مانند
عون حیدر
