Nafrat by Mahmood Hashmi




Mahmood Hashmi 🇵🇰

Entry No. 21

0.0/5 · 0 votes

نفرت

جانے کیوں لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں

مجھ کو سمجھے بنا ہی رخصت کرتے ہیں


میں نے تو سب کے دکھ کو اپنا سمجھا

وہ مرے دکھ پہ واہ واہ کرتے ہیں


میں نے ہر دل کو اپنا گھر سمجھا تھا

لوگ ہر گھر سے مجھ کو رخصت کرتے ہیں


آئینہ ہوں، تو سچ دکھاتا ہوں سب کو

آئینوں سے کہاں لوگ محبت کرتے ہیں


میں نے کانٹوں پہ بھی دیا ہے اجالا

وہ چراغوں کی بھی شکایت کرتے ہیں


جس کو اپنا کہا اسی نے لوٹا

اب تو اپنے بھی مجھ سے وحشت کرتے ہیں


میں تو خاموش رہ کے سب سہتا ہوں

وہ مری خامشی سے بھی نفرت کرتے ہیں


ایک محمودؔ تھا کہ سب کا ہوا تھا

اب وہی سب اسے نصیحت کرتے ہیں

محمود ھاشمی

0.0 / 5 · 0 votes

📢 Get your Promotion image

This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.

Leave a Reply