Mahmood Hashmi 🇵🇰
Entry No. 21
نفرت
جانے کیوں لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں
مجھ کو سمجھے بنا ہی رخصت کرتے ہیں
میں نے تو سب کے دکھ کو اپنا سمجھا
وہ مرے دکھ پہ واہ واہ کرتے ہیں
میں نے ہر دل کو اپنا گھر سمجھا تھا
لوگ ہر گھر سے مجھ کو رخصت کرتے ہیں
آئینہ ہوں، تو سچ دکھاتا ہوں سب کو
آئینوں سے کہاں لوگ محبت کرتے ہیں
میں نے کانٹوں پہ بھی دیا ہے اجالا
وہ چراغوں کی بھی شکایت کرتے ہیں
جس کو اپنا کہا اسی نے لوٹا
اب تو اپنے بھی مجھ سے وحشت کرتے ہیں
میں تو خاموش رہ کے سب سہتا ہوں
وہ مری خامشی سے بھی نفرت کرتے ہیں
ایک محمودؔ تھا کہ سب کا ہوا تھا
اب وہی سب اسے نصیحت کرتے ہیں
محمود ھاشمی
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
