Judayi by Mirza Basharat Kareem




Mirza Basharat Kareem 🇮🇳

Entry No. 23

0.0/5 · 0 votes

جدائی

کئی صدی پہ میرے گھر میں روشنی آئی

اس ایک شخص کے چہرے پہ جب ہنسی آئی


خدا سے یوں تو ہر ایک چیز مل گئی مجھ کو

ہر ایک بار ،ہمیشہ تیری کمی آئی


وہ میرے حال سے واقف رہا زمانے تک

مگر نہ لپ پہ تسلی نہ دل لگی ائی


وہ جس گلی سے پریشان ہو کے نکلا تھا

جہاں بھی جاکے میں ٹہرا وہی گلی ائی


میں اس کی راہ نہ تکتا تو اور کیا کرتا؟

وہ مجھ سے کہے کہ گئی تھی کہ میں ابھی آئی


تمام رات تو مرزا کٹی مگر پھر بھی

نہ چاند لوٹ کے ایا نہ چاندنی آئی

مرزا بشارت کریم

0.0 / 5 · 0 votes

📢 Get your Promotion image

This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.

Leave a Reply