Mirza Basharat Kareem 🇮🇳
Entry No. 23
جدائی
کئی صدی پہ میرے گھر میں روشنی آئی
اس ایک شخص کے چہرے پہ جب ہنسی آئی
خدا سے یوں تو ہر ایک چیز مل گئی مجھ کو
ہر ایک بار ،ہمیشہ تیری کمی آئی
وہ میرے حال سے واقف رہا زمانے تک
مگر نہ لپ پہ تسلی نہ دل لگی ائی
وہ جس گلی سے پریشان ہو کے نکلا تھا
جہاں بھی جاکے میں ٹہرا وہی گلی ائی
میں اس کی راہ نہ تکتا تو اور کیا کرتا؟
وہ مجھ سے کہے کہ گئی تھی کہ میں ابھی آئی
تمام رات تو مرزا کٹی مگر پھر بھی
نہ چاند لوٹ کے ایا نہ چاندنی آئی
مرزا بشارت کریم
📢 Get your Promotion image
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
