SALAMAT SHAKIR 🇵🇰
Entry No. 26
غزل
اپنا سمجھ کے آپ سے اُلجھے کبھی نہیں
جلتے ہیں روز آگ میں بھڑکے کبھی نہیں
جب آپ کا خیال بھی اوروں کی اُور تھا
ہم بھی متاع جان سے گُزرے کبھی نہیں
دل میں تو آندھیوں کا بڑا خوف تھا مگر
اُس نے جلائے دیپ جو بُجھتے کبھی نہیں
کہتے ہیں صاف صاف جو کہنے کی بات ہو
کینہ کسی کی ذات سے رکھتے کبھی نہیں
خاصا کرم خدا کا ہے ثابت قدم جو ہیں
ہم ٹُوٹتے تو روز ہیں بکھرے کبھی نہیں
نکلے جو ہم حدود سے بھاگے حدود میں
میٹھی زباں یہ لوگ بھی سمجھے کبھی نہیں
جن کی زبان تیر ہو ہتھیار ہاتھ ہوں
شاکر خدا کی مار سے بچتے کبھی نہیں
سلامت شاکر
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
