Muhammad Bilal Arif 🇵🇰
Entry No. 31
عشقیہ شاعری
تمہیں دیکھوں تو کوئی خواب سا لگتا ہے مجھے
تم نہ دیکھو تو یہی شہر سزا لگتا ہے مجھے
تری آنکھوں میں ٹھہر جاؤں تو پھر کیا غم ہے
یہ جہاں چھوڑ کے جانا بھی بھلا لگتا ہے مجھے
میں نے دیکھا ہی نہیں تجھ سے حسیں خواب کوئی
تو حقیقت میں بھی اک خواب نما لگتا ہے مجھے
تجھے چاہوں تو زمانے سے گلہ کیا کرنا
تیرا ہونا ہی محبت کی وجہ لگتا ہے مجھے
عارفؔ اس عشق کی تاثیر عجب ہے، اب تو
خود سے ملتا ہوں تو تیرا ہی پتا لگتا ہے مجھے
محمد بلال عارف
This poem is not according to the current contest requirements. Please read the contest rules and regulations.
