Istaqbalia ghazal by Mrs Dastgir Nazish




استقبالیہ غزل

بہتے دریا یہ سر شام چھلک جائیں گے

جھنجھناہٹ سے دروبام چھلک جائیں گے


چوڑیاں پہن کلائی پہ نہ نکلو باہر

خشک آنکھوں کےسبھی جام چھلک جائیں گے


کبھی کرتے نہیں دیکھا ہے گلہ غیروں کو

جب بھی ہوں گے یہاں بدنام چھلک جائیں گے


آنسووں کی تو یہاں کوئی نہیں ہے قیمت

دیکھتی آنکھ سے پیغام چھلک جائیں گے


چیخنا دن کو وہ ہر رات پریشاں ہونا

جب ہوئے پیار میں ناکام چھلک جائیں گے


چار سکوں کے عوض تم نے خریدی ہے وفا

نہیں معلوم تمہیں دام چھلک جائیں گے


دعوتیں کر کے بہت خوش ہیں زمانے والے

کبھی دل پیار میں گمنام چھلک جائیں گے


کرتی بے چین ہے بے وقت کی بارش نازش

وقت کی دھوپ میں آرام چھلک جائیں گے


مسز دستگیر نازش

This Post Has One Comment

  1. Malaika ahmad

    Kamal

Leave a Reply