استقبالیہ غزل
بہتے دریا یہ سر شام چھلک جائیں گے
جھنجھناہٹ سے دروبام چھلک جائیں گے
چوڑیاں پہن کلائی پہ نہ نکلو باہر
خشک آنکھوں کےسبھی جام چھلک جائیں گے
کبھی کرتے نہیں دیکھا ہے گلہ غیروں کو
جب بھی ہوں گے یہاں بدنام چھلک جائیں گے
آنسووں کی تو یہاں کوئی نہیں ہے قیمت
دیکھتی آنکھ سے پیغام چھلک جائیں گے
چیخنا دن کو وہ ہر رات پریشاں ہونا
جب ہوئے پیار میں ناکام چھلک جائیں گے
چار سکوں کے عوض تم نے خریدی ہے وفا
نہیں معلوم تمہیں دام چھلک جائیں گے
دعوتیں کر کے بہت خوش ہیں زمانے والے
کبھی دل پیار میں گمنام چھلک جائیں گے
کرتی بے چین ہے بے وقت کی بارش نازش
وقت کی دھوپ میں آرام چھلک جائیں گے

Kamal