غزل
کس لئے چھوڑ دیا ہم کو تڑپتا ناصح
ہم کوئی غیر تھے اتنا ذرا بتلا ناصح
شور کرکے دلِ بے چین ہوا ہے نادم
کہا کس نے اسے تنہائی میں سمجھا ناصح
حاکمِ وقت کی تلوار ترے زیرِ اثر
بھوک میں اتنا محبت کو نہ ترسا ناصح
ہم جو ہمسائے ترے ہوتے ترا جاتا کیا
ہر کسی کو تو تو بیکار نہ دھمکا ناصح
سوکھے پتوں کا بکھر جانا حماقت ان کی
تو تو پانی سبھی پودوں کو دیئے جا ناصح
اپنے ہاتھوں کی لکیروں کا اشارہ پڑھ کے
بیتے لمحات کی تصویر یہ بنوا ناصح
ہم رہے اپنی تمناؤں میں جیتے نازش
روز کس بات پہ جاتا ہے یہ گھبرا ناصح
