You are currently viewing Ankhen Meri Hain Aaj Bhi by Asad Amin Asad

Ankhen Meri Hain Aaj Bhi by Asad Amin Asad




آنکھیں مری ہیں آج بھی نمدار ، دلربا

آنکھیں مری ہیں آج بھی نمدار ، دلربا!

جو خوب تھے وہ ہو گٸے عیّار ، دلربا!


پچھلا پہر ہے رات کا معلوم ہے تجھے

اک دل ہے تیری یاد میں بیدار ، دلربا!


کچھ عرصہ پہلے تیرے ہی ساٸے کا تھا ادب

لگتے نہیں اب آپ بھی دلدار ، دلربا!


میری طرف سے ہوتی ہیں باتیں ہزار پر

تیری طرف سے خامشی ہر بار دلربا!


ملتے نہیں ہیں آپ بھی تو خاک میں جاٸے

تیرا دیدار و حسرتِ دیدار ، دلربا!


تیرے مکالمے کی ضرورت نہیں مجھے

تم سنگ دلی سے ہو گٸے سرشار ، دلربا!


ہاں! آج میرے منہ میں ذرا تلخی سی رہی

جاناں! یہ کچھ نہیں ہے ، یہ ہے پیار دلربا!


اسد امین اسد

 

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 1.8 / 5. Vote count: 4

No votes so far! Be the first to rate this post.

Urdu Poetry Contest

Urdu Poetry Contest is an online platform dedicated to promoting Urdu poetry, poets, poetry contests, and Urdu literary content.

Leave a Reply