Maryam mukhtar 🇵🇰
Entry No. 15
★★★★★★★★★★ 5.0/5 · 1 vote
آسِ محبت
یہ آس ہے تو بندھی رہے، یہ خیال دل میں بسا رہے
محبتوں کا شہر ہے، یہ محبتوں سے سجا رہے
ہے تمنا میری، وہ مکاں ہنسا بسا رہے
جس کا مکیں یہ قلب ریزہ ریزہ کیے چھپا رہے
چاہے کٹے یہ رات تاریکیوں سے ہم کلامی میں
خدا کرے تیرے حسین سپنوں کا دیا یوںہی جلا رہے
ہوں آشنا اس بات سے کہ ہے منزل رات کا سویرا
خدا کرے تیری یادوں کا دیا یوں ہی جلا رہے
ہزار پہلوؤں کے بعد بھی تیری محبت کیوں قضا رہے
کیا یہ محبت اتنی مہنگی کہ میری ذات سے خفا رہے
عرض ہے مرشد سے، میرا یار کیوں خفا رہے
میں ہوں گر اضطراب میں، تو وہ کیوں جدا رہے
مریم مختار
Facebook
WhatsApp
LinkedIn
X
Email
5.0 / 5 · 1 vote
Very nicely written
Umda
Impressed 💯😁