Woh tha Shayad by Aiman




Aiman 🇵🇰

Entry No. 13

3.0/5 · 2 votes

وہ تھا شاید

گزر گیا وہ ماضی جو خواب تھا شاید

تیرے اور میرے ملن کا سراب تھا شاید


وہ خوبصورت، خوب سیرت، خوب رو تھا مگر

گزر گئی جو صدی، اُس کا باب تھا شاید


جسے سمجھنے میں، میں نے ذرا سی جلدی کی

وہ علمِ ریاضی کا مشکل سوال تھا شاید


میں سچا موتی سمجھ کر جسے پروتی رہی

وہ کچا دھاگا تھا، ٹوٹا اور بکھر گیا شاید


جو عمر بھر مرے دل میں سوال بن کے رہا

وہ ایک بھولا ہوا سا جواب تھا شاید


میں بھول جاؤں اسے، یہ ممکن ہی نہیں، ایمن

میرے لیے تو وہ میری کل کائنات تھا شاید

ایمن

3.0 / 5 · 2 votes

📢 Get your Promotion image

This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.

This Post Has 2 Comments

  1. Usman

    Very nicely written aiman…i liked your ghazal

    1. Aiman Anjum

      Thanks

Leave a Reply