You are currently viewing Aaj ki Aurat by Raahat Naveed

Aaj ki Aurat by Raahat Naveed




آج کی عورت

یادوں کے بھنور میں کھوکر – اُٹھی جب میں تو سو کر

مجھےزور سے لگی جو ٹھو کر چاہیئے تھا مجھے پھر تو وا کر

میں تو بن گئی پھر تھی جو کر جلدی سے منہ ہاتھ کو دھو کر

کاموں کے بوجھ کو ڈھو کر تھوڑا ھنس کے بہت ساروکر

پھرمیاں بچوں کو گو” کر ہاتھ میں پھڑی پھر بوکر

میں نے رکھا نہ کوئی نوکرپہلے چولہے پر رکھا کو کر

برتن ، کپڑوں کو میں تو دھو کر اب کوئی کام بولے تو نوکر

بیج میں سارے ہی بوکر پھر گھر کو لگا کے لاکر

نازک اب بن گئی ٹاکر انجوائے کر اب تو سوکر

راحت نوید

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 4.2 / 5. Vote count: 66

No votes so far! Be the first to rate this post.

Leave a Reply