آج کی عورت
یادوں کے بھنور میں کھوکر – اُٹھی جب میں تو سو کر
مجھےزور سے لگی جو ٹھو کر چاہیئے تھا مجھے پھر تو وا کر
میں تو بن گئی پھر تھی جو کر جلدی سے منہ ہاتھ کو دھو کر
کاموں کے بوجھ کو ڈھو کر تھوڑا ھنس کے بہت ساروکر
پھرمیاں بچوں کو گو” کر ہاتھ میں پھڑی پھر بوکر
میں نے رکھا نہ کوئی نوکرپہلے چولہے پر رکھا کو کر
برتن ، کپڑوں کو میں تو دھو کر اب کوئی کام بولے تو نوکر
بیج میں سارے ہی بوکر پھر گھر کو لگا کے لاکر
نازک اب بن گئی ٹاکر انجوائے کر اب تو سوکر
راحت نوید
