You are currently viewing Aik jugno ki jab jhalak paon by Nasir Dhamaskar

Aik jugno ki jab jhalak paon by Nasir Dhamaskar




ایک جگنو کی جب جھلک پاؤں

ایک جگنو کی جب جھلک پاؤں
دل میں یادوں کی تب مہک پاؤں
ہلکی تاریکی میں رہوں گم سم
چشم سے دیدنی چمک پاؤں
ہے بناوٹ بڑا عجوبہ سا
کون ہے ڈھالیں جو نمونہ سا
بن نہیں پائے ہو بہو ہرگز
بیش انمول ہے نگینہ سا
دھوپ یا برقی رو سے ممکن ہے
ہو چلے سارے گھر بھی روشن ہے
ماسوائے پرند ایسا بھی
ٹمٹماتی سی جو لو لیکن ہے
غور قدرت میں خوب ہو جائیں
ذات میں جو الجھنے نہ پائیں
راز افشاں کئے رکھا ناصر
حسن ظن کا تقاضہ گر چھائیں

ناصر

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 2.8 / 5. Vote count: 12

No votes so far! Be the first to rate this post.

Leave a Reply