You are currently viewing Haseen Shaam by Amna Akram

Haseen Shaam by Amna Akram




حسین شام

تجھ سنگ جو تھی حسین شام
گزری ایسے جیسے سب ہو گیا تمام

تیرے کوچے جب آیا میں پی کر جام
تو سمجھو بن گے میرے سارے کام

تم اور تاروں کی سیج پر سجا آسمان
اِن اٹھتی جھکتی پلکوں کا پیام

آنکھوں میں کٹ جائیں گے یہ ایام
سنگ ہیں تو کیوں نہ ہو جائے چائے کا جام

تم بِن نہ کٹ سکے گی غازیٓ حسین شام
لوٹ آنا چاہے نِکل جائے کل کی شام

آمنہ اکرم

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 2.9 / 5. Vote count: 8

No votes so far! Be the first to rate this post.

Leave a Reply