اک شام ان کے نام
کوی ایک شام سلیقے سے ان کے نام ہو
جس میں دل کی لگی آگ کا کام تمام ہو
اور اس کے چہرے کی بات چھوڑو
ہونٹوں سے آگے بات تمام ہو
کبھی وہ روٹھے تو اسے مناؤں
کبھی وہ میرا نام لے کر ھمکلام ہو
آنکھوں سے آنسو کیسے چھلکے
جب ان سے ملنے کا اہتمام ہو
وہ غزل اسے کیسے سناؤں ضیاؔء
جس کی شروعات ہی اختتام ہو
عبداللہ ضیاء
