You are currently viewing Kuch khaas tha us shaam main by Waleed Zaheer

Kuch khaas tha us shaam main by Waleed Zaheer




کچھ خاص تھا اس شام میں

سورج بھی ڈوب رہا تھا بادلوں کے حجاب میں
عکس میرے چاند کا تھا، آئینہء مہتاب میں
مے خانے یوں ہی بلا وجہ، مشہور ہیں نشے کی خاطر
مے سے زیادہ تھا نشہ، اس کے پلائے آب میں

اس جیسی کبھی دیکھی نہیں، کچھ خاص تھا اس شام میں
میں نے وہ سب جی کے دیکھا، دیکھا تھا جو خواب میں

اس نے کہا تعریف کرو، میں کرتا بھی تو کیسے
ہیں لفظ بیاں کرنے سے قاصر، جو ادائیں میرے جناب میں

آج تلک مجھے یاد ھے, وہ آنکھیں کتنا بولتی تھیں
اک پوشیدہ سوال تھا ہوتا، ان کے ہر ایک جواب میں

تیرا ہاتھ تھا میرے ہاتھ میں، میرا عکس تھا تیری آنکھ میں
ہر منظر اس حسیں شام کا، ھے درج زندگی کی کتاب میں

ھے معلوم مجھے ممکن نہیں، جینا وہ شام پھر سے ولید
گزاروں گا اپنی زندگی میں، پھر بھی اسی سراب میں

ولید ظہیر

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 4.5 / 5. Vote count: 130

No votes so far! Be the first to rate this post.

This Post Has 5 Comments

  1. Ahmad Ali

    Umda

    1. Waleed Zaheer

      Shukria brother

  2. Sana

    Tera hath tha mre hath main. Mrra akks tha terii Ankhh main 💞

  3. Ghalib Abbas

    Kamal poetry.

    1. Waleed Zaheer

      Thanks brother

Leave a Reply