Qafs Nashin Dal by Malaika Ahmad




قفس نشیں دل

‎اگرچہ میرے پاس روابط کے تمام ذرائع ہیں میسر،

‎مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔

‎دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،

‎کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔

‎میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،

‎وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔

‎ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،

‎ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔

ملائکہ احمد

3.7 (3 votes)

Leave a Reply