Aisha Sajjad 🇵🇰
Entry No. 9
★ 0.0/5 · 0 votes
سہارا خدا کا
یادِ گزشتہ سے گزر کر جس گھڑی بکھر جاتی ہوں
سمیٹنے کے لئے خود کو تب اس کے در جاتی ہوں
سارا نگر ڈھکا ہوتا ہے جب نیند کی چادر سے
بوندیں اشک کی تب برساتی ہوں گہرے ابر سے
یوں سفر عبادت میں نا خیال، نا کوئی رنج ستاتا ہے
رہتی ہے نا ادھوری کہانی نا کوئی درد رلاتا ہے
فقط سمجھ لے سفارش کے لئے نم آنکھیں کافی ہوتی ہے
ہر چیز جس کے بعد مقدر میں تیرے لکھ دی جاتی ہے
آدمِ اولادِ، دعا کی منظوری پہ رکھ اس قدر یقین
کہ ہر صدا پر تیری ملائکہ بھی کہیں آمین آمین
عیشہ سجاد
Facebook
WhatsApp
X
LinkedIn
Email
0.0 / 5 · 0 votes
This poem is not according to the current contest requirements. Please read the contest rules and regulations.