Sahara Khuda ka by Aisha Sajjad




Aisha Sajjad 🇵🇰

Entry No. 9

0.0/5 · 0 votes

سہارا خدا کا

یادِ گزشتہ سے گزر کر جس گھڑی بکھر جاتی ہوں

سمیٹنے کے لئے خود کو تب اس کے در جاتی ہوں

 

سارا نگر ڈھکا ہوتا ہے جب نیند کی چادر سے

بوندیں اشک کی تب برساتی ہوں گہرے ابر سے

 

یوں سفر عبادت میں نا خیال، نا کوئی رنج ستاتا ہے

رہتی ہے نا ادھوری کہانی نا کوئی درد رلاتا ہے

 

فقط سمجھ لے سفارش کے لئے نم آنکھیں کافی ہوتی ہے

ہر چیز جس کے بعد مقدر میں تیرے لکھ دی جاتی ہے

 

آدمِ اولادِ، دعا کی منظوری پہ رکھ اس قدر یقین

کہ ہر صدا پر تیری ملائکہ بھی کہیں آمین آمین

عیشہ سجاد

0.0 / 5 · 0 votes

This poem is not according to the current contest requirements. Please read the contest rules and regulations.

Leave a Reply