Ik Shaam by Ahsan Iqbal




Ahsan Iqbal 🇵🇰

Entry No. 10

3.0/5 · 1 vote

 

اِک شام

اک شام میں تنہا بیٹھا تھا

وہ تنہائی کیا تنہائی تھی

کچھ میری ذات تو شامل تھی

کچھ اُس کی ذات بھی شامل تھی

وہ سامنے میرے بیٹھا تھا

میں تکتا اُس کو رہتا تھا

وہ کچھ بھی مجھ کو کہتا تھا

بس اُس کو سنتا رہتا تھا

وہ کہتا تھا کچھ بات تو کر

میں لفظ اٹھانے لگتا تھا

جب لفظ میں اپنے چنتا تھا

کچھ دل کی کہنے لگتا تھا

وہ غائب ہی ہو جاتا تھا

میں تنہا ہی رہ جاتا تھا

اک شام میں تنہا بیٹھا تھا

احسن اقبال

3.0 / 5 · 1 vote

📢 Get your Promotion image

This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.

Leave a Reply