Shazia Tazeen 🇮🇳
Entry No. 12
جیتنا سیکھا
میری قابلیت پہ ہمیشہ لوگوں کو مجھ پہ ہنستے دیکھا
یہاں تو جان کی بھی قیمت نہی اس دن پھلا یہ سبق سیکھا.
منذلیی چاھے ساتویں آسمان پر کیوں نہ ہوں
مگر راستہ ہمیشہ قدموں کے نیچے دیکھا.
گرکر سمبھلتے
سمبھلتے سمبھلتے.
میی نے چلنا سیکھا.
چلتے چلتے پھر میی نے دوڑنا سیکھا. دوڈتے دوڈتے میی نے اڈھنا سیکھا. دنیا کی لشکروں سے کبھی خوف نھیں رھی.
ہم نے ارادوں کے ہتھیار ایسے بناۓ رکھا.
تجھسے تو بہت کچھ سیکھا کبھی مجھسے بھی کچھ سیکھ اے ذندگی
کامیابی کو مقدر بناکر ذندگی کو میی نےجیت سےجیتنا سیکھا
شاذیہ تذیین
This poem is not according to the current contest requirements. Please read the contest rules and regulations.
