Shazia Tazeen 🇮🇳
Entry No. 12
★ 0.0/5 · 0 votes
جیتنا سیکھا
میری قابلیت پہ ہمیشہ لوگوں کو مجھ پہ ہنستے دیکھا
یہاں تو جان کی بھی قیمت نہی اس دن پھلا یہ سبق سیکھا.
منذلیی چاھے ساتویں آسمان پر کیوں نہ ہوں
مگر راستہ ہمیشہ قدموں کے نیچے دیکھا.
گرکر سمبھلتے
سمبھلتے سمبھلتے.
میی نے چلنا سیکھا.
چلتے چلتے پھر میی نے دوڑنا سیکھا. دوڈتے دوڈتے میی نے اڈھنا سیکھا. دنیا کی لشکروں سے کبھی خوف نھیں رھی.
ہم نے ارادوں کے ہتھیار ایسے بناۓ رکھا.
تجھسے تو بہت کچھ سیکھا کبھی مجھسے بھی کچھ سیکھ اے ذندگی
کامیابی کو مقدر بناکر ذندگی کو میی نےجیت سےجیتنا سیکھا
شاذیہ تذیین
Facebook
WhatsApp
X
LinkedIn
Email
0.0 / 5 · 0 votes
This poem is not according to the current contest requirements. Please read the contest rules and regulations.