Habiba karim 🇵🇰
Entry No. 22
ندامت
دل میں اک بارِ ندامت ہے کہ اُٹھتا ہی نہیں
زخم ایسا ہے جو برسوں سے بھی بھرتا ہی نہیں۔
ہر نفس اپنے ہی جرموں کی گواہی بن کر
میرے سینے میں اُترتا ہے گزرتا ہی نہیں۔
میں نے چاہا بھی تو خود سے نظرے ملا نہ سکی
آئینہ مجھ کو مرے حال سے بچاتا ہی نہیں۔
رات بھر دل کی عدالت میں کھڑی رہتی ہوں
کوئی الزام ہے جو مجھ سے ٹلتا ہی نہیں۔
اشک آنکھوں میں نہیں روح میں اُتر آئے ہیں
یہ وہ دریا ہے جو پل بھر کو اُترتا ہی نہیں۔
اب اک بار زمانہ مجھے معاف بھی کردے
پر مرا دل ہے کہ خود مجھ کو بخشتا ہی نہیں۔
اب تو اے رب! ترے در ہی پہ ٹھہرنے دے مجھے
یہ ندامت کا سفر مجھ سے سنبھلتا ہی نہیں۔
حبیبہ کریم
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
