شام
ڈ ہلتی شام ہے کچھ تو میرے نام کرو
ایسا کروتم نظر کے سامنےہی بیٹھے رہو
لگتا ہے کوئی طوفان اٹھ رہا ہے اندر
اتنے خاموش ہو تم کچھ تو آ خر کہو
نظر کی مار ہی مارتے ہو سدا تم مجھے
میرے اندر کی بےبسی کو کچھ پل سنو
یہ بھول جا ؤ ہم میں کوئی تیسرا بھی ہے
خود کو اس لمحےایسے مکمل میرا کر و
وقت پھر تم کو ملے یا نہ ملے امرح
آ ج تم ایک . بھرپور زندگی جیو
