شام
شام تو ویسے بھی ڈھلنی ہے
اندھیرے سے کیا ڈرنا
شام کا ڈھلنا خوشخبری ہے
رات کو تارے چمکیں گے
چاند کی چاندنی کے سنگ
تاروں کا ساتھ نبھائیں گے
خواب سہانے آئیں گے
خوابوں کو تم بنتے رہنا
خوابوں کو تعبیر ملے گی
جزبوں کو تاثیر ملے گی
صبح کو شبنم ابھریں گے
صبح کی آنچل میں تم
چہرے پہ مسکان بکھیرے
گلشن کے پھلوں کے جیسے
ہر طرف خوشبو بکھیرے
شبنم کے جیسے چمکتے رہنا
شام تو ویسے بھی ڈھلنی ہے
!!خوابوں کو تم بنتے رہنا۔۔
نازیہ بتول
How useful was this post?
Click on a star to rate it!
Average rating 4 / 5. Vote count: 43
No votes so far! Be the first to rate this post.