شام ڈھل رہی ہے خوابوں کے آنگن میں
انتظار کے لمہے سو گئے آنگن میں
اک آس تھی کہ تم اس بار شام ڈھلے آ جاو گے
مگر لال رنگ شام کا اترا آنگن میں
کئی پیار کے موسم گذر گئے اس غلط فہمی میں
اس دل کا کیا کریں جو شب و روز رہتا ہے آنگن میں
دنیاداری کو دکھانے کو ہے یہ مردہ جسم
لوگ کیا جانے جاں کب کی نکل گئی اس آنگن میں
آرزو تو یہی ہے کہ تم آجاو کندھا دینے جنازے کو
کیا پتا وہ شام اتر آے اس آنگن میں
طاہرہ منصور

Awsome Tahira bhabi
Just wow 👌
Nice❤️
Wah wah kya shaayaree hai
Buhut buhut shukriya sub ka 😊