شام
یہ شام اب پھر شام نہ رہے شاید
یہ رات پھر رات نہ رہے شاید
نام تو بھول کر بھی لیا کرتے تھے ان کا
اب یہ نام پھر نام نہ رہے شاید
اس کے آنے کی خبر تو تھی لیکن
اب یہ خبر پھر خبر نہ رہے شاید
مان تب بھی تیری ہر بات کا تھا لیکن
اب یہ مان پھر مان نہ رہے شاید
روئے گی یہ دنیا میرے بچھرنے پر لیکن
یہ بچھرنا اب پھر بچھرنا نہ رہے شاید
امید تب بھی تیری مھبت کا تھا لیکن
یہ امید اب پھر امید نہ رہے شاید
وہ خواب آج بھی تیرے ساتھ کا تھا لیکن
یہ خواب اب پھر خواب نہ رہے شاید
ساتھ ہو کر بھی تو ساتھ نہ رہا لیکن
یہ ساتھ اب پھر ساتھ نہ رہے شاید
شکایت تو بہت تھی اسے مجھ سے لیکن
یہ شکایت اب پھر شکایت نہ رہے شاید
رنگ کتنے بھی تیرے غم کے تھے لیکن
یہ سب رنگ اب پھر رنگ نہ رہے شاید
ہر غم سھ کر بھی دعا دی تجھ کو
یہ دعا اب پھر دعا نہ رہے شاید
بھٹکے تب بھی تیرے شھر کی گلیوں میں لیکن
یہ شھر اب پھر وہ شھر نہ رہے شاید
شام ستاروں میں تلاش کرنا تجھ کو
یہ تلاش اب پھر وہ تلاش نہ رہے شاید
یہ شام پھر تیرے لوٹ آنے تک مسافر
میں اب زندہ رہوں نہ رہوں شاید
ظہرہ بتول
How useful was this post?
Click on a star to rate it!
Average rating 4.2 / 5. Vote count: 92
No votes so far! Be the first to rate this post.