محبت
محبت ہارتی ہے جیت کر دنیا کی نفرت کو
اگر اپنی نہیں جگ میں تو نہ کرنا محبت کو
زمانہ پوچھتا ہے کس کے متلاشی ہو بتلاؤ
صنم کو چھوڑ کر موضوع بناتے ہیں عبادت کو
ہوپردہ چاک اور ادھڑے ہوئے بخیے سراپا کے
چھپا سکتا نہیں چہرے سے پھر انسان ندامت کو
بکاؤ مال ہیں جذبات کی کوئی نہیں قیمت
خریدے کا کوئی کیسے بنا دولت شرافت کو
نہ بدلے گا بدلتا بھی نہیں چہرہ حوادث کا
کھڑے ہونا اکیلے چھوڑ دوتم بھی اس عادت کو
رہے ہو منتظر پہروں بتاؤ کس کے لئے گل چیں
نہیں تم جانتے ہو کیا زمانے کی شرافت کو

Aaaaallla poetry
Like!! Really appreciate you sharing this blog post.Really thank you! Keep writing.