منتشر خیالات
حقیقت بھی خواب سی اب لگنے لگے
روشنی بھی اندھیرے سے یہاں ڈرنے لگے
وحشت بھری، اس روح میں کہیں
اب یقین بھی گماں سے نہ تھکنے لگے
قبروں سا سکون لیے، یہ چہرے ہمارے
اور دل انکے عذابوں سے بھرنے لگے
ٹمٹماتی ہوئی ان آنکھوں میں، اب
امید بھی چھپ کر نہ سِسَکّنے لگے
خوشیوں کی ٹوٹی ہے کٹیا ایسے
کہ درد ہی محض اب سکوں بننے لگے
سمجھنے سے قاصر ہوں بس یہ بات
ہیں کن خیالات میں ہم اب بھٹکنے لگے
